علامہ ڈاکٹر بابر سلطان القادری کی معرکۃ الآرا کتاب جینیاتی ہومیو پیتھی پر تبصرہ
ڈاکٹر سید مفتی منیر الاسلام
حصولِ
صحت کیلئے مختلف طریقہ ہائے علاج رائج ہیں مگر میرے دیرینہ دوست محترم بابر سلطان
القادری ملتانی صاحب نے ‘‘ قانون بالمثل اور جینیاتی سائنس’’ پر ایک نئی کتاب لکھی
ہے جس نے دنیا کے معالجین کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ان کی پہلی کتاب ‘‘
تحقیقاتِ انسانی بلڈ گروپ’’ ایک مقبولِ عام کتاب ہے جو ہاتھوں ہاتھ لی گئی اور
معالجین کے ہاتھوں مایوس و لا علاج مریض اس کتاب کی بدولت شفا ء کلی حاصل کر چکے
ہیں ۔
قادری
صاحب صرف ہومیو پیتھ ہی نہیں بلکہ ماہر طبیب نظریہ مفرد اعضاء ہیں ۔ یہ ماشاء اللہ
روحانیت کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔علومِ مخفیہ کے بھی ماہر ہیں اور اس سلسلہ میں
انہوں نے دیگر کئی کتب لکھی ہیں ۔ روحانی معالجین ان کی کتب سے استفادہ کرتے اور
دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ۔ ان کی تمام کتب پڑھنے کے لائق اور علوم کا
خزانہ ہیں ۔ بابر سلطان صاحب ایک روحانی شخصیت ہیں اور انسانیت کی خدمت میں مصروف
عمل ہیں ۔ لا تعداد لوگ ان کے عقیدت مند و مرید ہیں ۔
ان کی
زیرِ نظر کتاب میں DNA/RNA کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے ۔
مفکر و ریسرچ سکالرہیں اور اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہDNA/RNA کیمیائی عمل و
توازن کا ایک زبردست نظام رکھتا ہے ۔ پورے وجود کی بنیاد اسی خون پر قائم ہے جو
جذبات و احساسات سے لے کر مادی وجود تک ترتیب دے رہا ہے ۔ تمام علامات اس خون میں
مختلف کیمیائی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہیں ۔ آج کل سینکڑوں امراض کے ٹیسٹ خون کے
کیمیائی تجزیے سے ہو رہے ہیں ۔ گویا خون ایک مرکزی نکتہ ہے جو مختلف امراض کی
تشخیص کا باعث بنتا ہے ۔ "Like
cure like" ہی قانون
ِ ہانیمن ہے اس لئے کہ ہر فرد انفرادی حیثیت کا مالک ہے اور اس کے خون میں موجود DNA انفرادی ہے تو
اس کی دوا اس کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتی اور جو حیرت انگیز تبدیلیاں، کیمیائی عمل
آپ کا خون آپ کیلئے رکھتا ہے وہ کوئی دیگر دوا نہیں رکھتی ۔ آپ کو آپ کا ہی خون
پوٹنٹائزڈ کر کے دیا جائے تو یہ آپ کی ہر بیماری کا ازالہ کرے گا۔ اس سے زیادہ
مشابہہ similar دوا آپ کیلئے اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔ یہی
اصولِ ہومیو پیتھی ہے جو قانون ِ بالمثل کے تحت بالکل ٹھیک ہے اور لاعلاج عوارض کا
صحیح علاج اس طرح ہو سکتا ہے ۔ خون ڈائنامک سسٹم کے تحت ڈائنامائزر کے ذریعے
پوٹنٹائز ہو سکتا ہے اور ایک تجربہ کار ڈاکٹر ہی اس کام کو صحیح سر انجام دے سکتا
ہے ۔ مایوس مریض اس طریقہ سے ضرور استفادہ کریں اور دیگر مضر صحت ادویات سے
چھٹکارا پائیں ۔
ڈاکٹر
سید مفتی منیر الاسلام
سمن آباد ۔ لاہور